Skip to main content

جب اس عالمی وباء نے ملک کے بیشتر حصے کو رکنے پر مجبور کر دیا تب بھی L6P کے رہائشیوں کو حرکت میں رہنا پڑا

Ravish Garg, left, and Anu Sharma stand outside their apartment in Brampton's L6P postal code.Baljit Singh/The Globe and Mail

Ravish Garg سڑک پر 15 گھنٹے کا ایک اور دن گزارنے کے بعد شاہراہ سے باہر نکلنے کے لیے اشارہ آن کرتے ہیں۔ دوسرے ٹرک جو ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے اپنی اپنی منزل کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک، بڑے سے ایمیزون فُلفِلمنٹ سینٹر (Amazon Fulfilment Centre) کے سامنے گھاس میں لگے ایک سادہ سے نیلے رنگ کے بریمپٹن میں خوش آمدید والے بورڈ کے آگے سے گزر کر کچھ سامان پہنچائے گا جس میں کُتے کو باندھنے کی ایک رسی ہے جس کا ٹورانٹو کے ایک کونڈو میں رہنے والی ایک خاتون نے ایک دن میں ترسیل کیے جانے کے لیے آرڈر دیا تھا۔ اس کو ایک کارکن ڈبے میں بند کریں گے جو 90 منٹ تک بس میں بھِنچ کر گودام تک پہنچے ہیں۔ ایک اور ٹرک شمال کی جانب ڈیڑھ کلومیٹر چل کر وسیع و عریض میپل لاج فارمز پروسیسنگ پلانٹ پر جائے گا - جہاں کوویڈ-19 پچھلے سال میں 100 سے زائد ملازمین میں منتقل ہو کر دو اموات کا سبب بن چکا ہے - یہاں پر یہ ہزاروں پاؤنڈ مرغیاں ذخیرہ کروائے گا، جن میں سے ایک کو اوشاوا کے مضافات کا ایک خاندان اُس ہفتے کے آنے والے دنوں میں رات کے کھانے میں کھائے گا۔ Mr. Garg کا بار، اوک وِل میں ایک احاطے میں پہنچایا جائے گا، جس کے بعد وہ یُولائن شپنگ سپلائی کمپنی کی جانب روانہ ہوں گے جس کے امریکی سی ای او، کوویڈ-19 کی پابندیوں کے خلاف مہم چلا چکے ہیں۔

اور پھر 31 سالہ Mr. Garg اپنی گاڑی میں بیٹھیں گے اور L6P جائیں گے جو کہ بریمپٹن کا ایک پوسٹل کوڈ ہے؛ یہاں کی کوویڈ-19 کے کیسز کی فی کس شرح صوبے بھر میں بلند ترین ہے۔ وہ خود کو اپنے تہ خانہ اپارٹمنٹ میں ایک نیم علیحدہ گھر کے بغلی دروازے سے داخل کریں گے، جہاں ان کی منگیتر، 26 سالہ Anu Sharma ان کا رات کا کھانا گرم کریں گی: راجما چاول کی ایک تھالی، یعنی کِڈنی بِین کا سالن جو ان کو ان کی ہونے والی ساس نے پنجاب سے ویڈیو کال ہر بنانا سیکھایا تھا۔ وہ ایک گھنٹے تک باتیں کریں گے جس کے بعد Mr. Garg سونے کے لیے اپنے بستر پر چلے جائیں گے جہاں وہ چھ گھنٹے آرام کرنے کے بعد صبح کے 2 بجے ایک اور طویل دن گاڑی چلانے کے بیدار ہو جائیں گے۔

جنوری میں عوامی خدمات کے ایک وائرل اعلان میں، اونٹاریو کے پریمیر،Doug Ford نے - پنجابی بولتے ہوئے، جو کہ انگریزی کے بعد L6P کی دوسری بڑی مادری زبان ہے - Mr. Garg اور ان کے ہمسایوں کو تاکید کی تھی کہ “گھراں رہو،” یعنی گھر پر رہیں۔ وہاں رہنے والے 82,000 سے زائد افراد میں چند خوش نصیب ایسے ہیں جو اس مشورے پر عمل پیرا ہونے متحمل ہو سکتے تھے۔ پس ان میں سے بہت سے افراد بالاخر مقامی کوویڈ-19 تشخیصی مرکز، بریمپٹن سوک ہسپتال کے آئی سی یو یا مقامی مردہ خانے جا پہنچے ہیں۔

L6P میں، 89 فیصد رہائشی کسی نہ کسی مخصوص نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور 66 فیصد جنوبی ایشیائی ہیں۔ یہاں کے گھرانوں کی اوسط آمدنی 102,070$ ہے، جو قومی اوسط سے 45 فی صد زیادہ ہے، لیکن اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بہت سے گھروں میں متعدد کارکن اپنی آمدنیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا لیتے ہیں۔ اوسط انفرادی آمدنی صرف 26,139$ ہے۔ کوویڈ-19 کی پہلی لہر کے بعد، ڈیٹا نے واضح کیا کہ نسل اور طبقہ اس عالمی وباء کے روحِ رواں ہیں: غیر محفوظ ملازمت، بیماری میں تنخواہ کے ساتھ رخصت دیے جانے کی عدم دستیابی، اور پُرہجوم یا کئی نسلوں کی اکٹھی رہائش، لوگوں کو انفیکشن اور ہسپتال میں داخل ہونے کے خطرے سے دوچار کرتے ہیں۔ تیسری لہر میں ان اعدادوشمار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ مونٹریال، سرے، بی۔سی اور ٹورونٹو کے دوسرے محلوں کی طرح L6P نے بھی اپنی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ برداشت کیا ہے۔ ضروری کام کرنے والے رہائشی گھر پر نہیں رہ سکتے تھے۔ تنیجتاً مثبت کیسز کی شرح 20 فیصد سے اوپر چلی گئی ہے۔

*Areas with fewer than 6 individuals positive for COVID-19 in a given week are labelled as “suppressed.”
the globe and mail, Source: ICES

بریمپٹن کے پیئرسن بین الاقوامی ہوائی اڈے سے قریب ہونے نے اسے نقل و حمل اور رسد کے لیے ملک کا ایک اہم مرکز بنا دیا ہے۔ 2019 میں، 1.8$ ارب کا سامان پِیل ریجن، بریمپٹن جس کا حصہ ہے، سے گزر کر روزانہ کینیڈا کے دوسرے علاقوں میں جاتا تھا۔ جو قربانیاں L6P کے رہائشیوں نے کینیڈا کے بہت سارے دوسرے باسیوں کو محفوظ اور راحت سے رکھنے کے لیے دی ہیں وہ زیادہ تر نگاہوں سے اوجھل رہی ہیں - بریمپٹن کے کارخانوں، گوداموں اور تعمیراتی مقامات پر کام کے دوران مرض کے پھیلنے کے زیادہ تر واقعات کو عوام کے علم میں نہیں لایا گیا ہے، اور پِیل میں جن افراد کو کوویڈ-19 لاحق ہوا ان میں پانچ میں سے صرف تین افراد نے صحت عامہ کے اداروں کو اپنی ملازمتوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

Percentage of residents commuting to work

L6P, Brampton

Toronto

Difference in the proportion of commuters

between Toronto and Brampton’s L6P area

Although the proportion of commuters dropped significantly in both the L6P area and in Toronto, a higher proportion of L6P residents continued to commute as compared to Toronto.

A

Ontario declared

state of emergency

50%

40

A

30

20

10

0

July

July

Jan.

2019

Jan.

2020

Jan.

2021

Note: Environics Analytics collects anonymized data from mobile devices with location enabled to see what percentage of people moved more than 500 metres beyond their inferred "common evening location" for a given timeframe. Data are aggregated to the postal code level to ensure it is not personally identifiable.

CHEN WANG AND MURAT YÜKSELIR / THE GLOBE AND MAIL,

SOURCE: ENVIRONICS ANALYTICS

Percentage of residents commuting to work

L6P, Brampton

Toronto

Difference in the proportion of commuters

between Toronto and Brampton’s L6P area

Although the proportion of commuters dropped significantly in both the L6P area and in Toronto, a higher proportion of L6P residents continued to commute as compared to Toronto.

A

Ontario declared

state of emergency

50%

40

A

30

20

10

0

July

July

Jan.

2019

Jan.

2020

Jan.

2021

Note: Environics Analytics collects anonymized data from mobile devices with location enabled to see what percentage of people moved more than 500 metres beyond their inferred "common evening location" for a given timeframe. Data are aggregated to the postal code level to ensure it is not personally identifiable.

CHEN WANG AND MURAT YÜKSELIR / THE GLOBE AND MAIL,

SOURCE: ENVIRONICS ANALYTICS

Percentage of residents commuting to work

L6P, Brampton

Toronto

Difference in the proportion of commuters

between Toronto and Brampton’s L6P area

Ontario declared

state of emergency

50%

Although the proportion of commuters dropped significantly in both the L6P area and in Toronto, a higher proportion of L6P residents continued to commute as compared to Toronto.

40

30

20

10

0

April

July

Oct.

April

July

Oct.

April

Jan.

2019

Jan.

2020

Jan.

2021

Note: Environics Analytics collects anonymized data from mobile devices with location enabled to see what percentage of people moved more than 500 metres beyond their inferred "common evening location" for a given timeframe. Data are aggregated to the postal code level to ensure it is not personally identifiable.

CHEN WANG AND MURAT YÜKSELIR / THE GLOBE AND MAIL, SOURCE: ENVIRONICS ANALYTICS

اس عالمی وبا کو آئے 10 ماہ ہو چکے تھے جب 600,000 سے زیادہ آبادی والے اس شہر کو اپنا پہلا کوویڈ-19 کا تشخیصی مرکز حاصل ہوا جس کی توجہ جنوبی ایشیائی کمیونٹی کی جانب تھی۔ اس کو ایک ایسی جگہ دی گئی جو غیر روایتی بھی تھی اور مقامی لوگ اس سے واقف بھی نہیں تھے: ایمبیسی گرینڈ بینکویٹ ہال، جہاں بہت سارے لوگوں نے تقریبات میں شرکت کی ہوئی تھی۔ ابتدا میں عملے کو کبھی کبھار سانس لینے میں مشکل کا شکار، تیز بخار کا شکار اور بے ہوش ہو جانے کے قریب افراد کے لیے ایمبولینسیں طلب کرنا پڑتی تھیں۔ مئی کے شروع تک، کبھی کبھی تو یہ آمد و رفت ایک دن میں کئی بار ہو رہی تھی۔

Priya Suppal، جو ٹیسٹنگ سینٹر کی میڈیکل ڈائریکٹر اور L6P کی رہائشی ہیں، کو آنے والے لوگوں کے لیے مترجم، سماجی کارکن اور آبادکاری کارکن کا کردار ادا کرنا پڑتا تھا۔ کچھ لوگوں کو اندیشہ ہے کہ اگر انہیں گھر پر آئیسولیٹ کرنے پر مجبور کیا گیا تو ان کی ملازمت چلی جائے گی یا یہ کہ ان کے اہل خانہ کو کھانے کے لالے پڑ جائیں گے۔ نئے آنے والوں کو خوف ہے کہ ان کے ویزے منسوخ کردیئے جائیں گے اور انہیں ملک بدر کردیا جائے گا۔ بہت ساری خواتین نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کسی مفت، حکومت کے زیرِ انتظام چلائے جانے والے آئیسولیشن ہوٹل میں نہیں جا سکتی ہیں کیونکہ ان کے سسرال والے اس کی اجازت نہیں دیں گے اور اس کے بجائے انہیں اپنے گھر واپس آنا ہو گا جو کہ ان کے گھر والوں کو خطرے میں ڈالے گا۔ لیکن ایسے رہائشی بھی ہیں جو اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ڈنر پارٹیوں اور دیگر اندرون خانہ اجتماعات میں گئے تھے۔ اپریل کے وسط میں اپنے نقطہِ عروج پر، L6P میں کیسز کی شرح 663 فی 100,000 تھی جو قومی اوسط کا چار گُنا ہے۔

Dr. Suppal کا کہنا ہے “لوگ یہاں آنے سے ڈرتے ہیں۔ وہ شاید جانتے ہیں کہ وہ مثبت ہیں اور یہ کہ ٹیسٹ مثبت آنے کے مزید ذیلی اثرات بھی ہیں۔”

اندرونِ L6P : گلوب نے برامپٹن کی اِس کمیونٹی کو اپنی کوڈ۔19 کی کہانیاں بانٹنے کا کیوں کہاں.

‘وقتِ تحریر، ہمارا گھر سوگ میں ہے’


جو لوگ بریمپٹن سے واقف نہیں وہ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ اس جگہ پر صرف ٹیکسی ڈرائیور اور گوداموں کے کارکن رہتے ہیں۔ وہ یہ تاثر بھی لے سکتے ہیں کہ L6P کے رہائشی بھی اس ہی طرح کی کثیر منزلہ عمارات میں جوق در جوق رہ رہے ہیں جیسی عمارات کی، ضروری کارکنوں سے آباد، بہت سے دوسرے محلوں میں بہتات ہے۔ لیکن یہ در حقیقت اُس طرح کا ایک مضافاتی ٹکڑا ہے جو آپ کو لینگلی، بی۔سی، کیلگری یا بیڈفورڈ، این۔ایس میں دیکھنے کو ملتا ہے – اینٹوں کی چُنائی والے ٹاؤن ہاؤسز، ڈبل گیراج والے سنگل-فیملی ہومز اور دو ایکڑ کے پلاٹوں پر بنے میک-مینشنز۔

قدیم لان والے کچھ محل نما علیحدہ مکانات میں انڈو-کینیڈین ڈاکٹروں کی دوسری نسل رہائش پذیر ہے؛ دوسروں کو طلباء کے لیے ملٹی یونٹ رہائش گاہوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ مزید میانہ درجے کے مکانات میں سے کئی میں کثیر نسلی خاندان رہ رہے ہیں جن کے سربراہ ضروری کارکن ہیں۔ کثیر منزلہ اور میانہ اونچائی کی رہائشی عمارات کی کمی کے باعث کرائے کی رہائش گاہوں کی بیشتر تعداد تہہ خانہ اپارٹمنٹس کی شکل میں ہے۔ عالمی وباء سے قبل، اسکولوں میں یہ توقع پائی جا رہی تھی کہ ستمبر میں وہ مقامی رہائش کے اعداد میں نظرآنے والی تعداد کے مقابلے میں سینکڑوں نہیں تو کئی درجن زیادہ طلباء کا استقبال کر رہے ہوں گے، کیونکہ تہہ خانہ یونٹوں میں رہنے والے بہت سے خاندانوں کو سرکاری اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

L6P ملک کے سب سے تیزی سے بڑھتے حصوں میں سے ایک ہے۔ اینوائیرونکس کے مطابق 2031 تک آبادی کے تقریباً 143,000 ہو جانے کا تخمینہ ہے – 2016 جب آخری مردم شماری کی گئی تھی، کے مقابلے میں 68 فیصد اضافہ۔ اسی مدت میں کینیڈا میں مجموعی طور پر 15 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

The majority of homes in L6P were built in the past two decades. Satellite image ©2021 Google Earth

ائیرپورٹ ٹیکسی ایسوسی ایشن کا اندازہ ہے کہ پیئرسنز کے 1,500 ڈرائیوروں میں سے آدھے L6P میں رہتے ہیں۔ اس تعداد میں Karam Singh Punian بھی شامل تھے، کھچڑی داڑھی اور نرم مسکراہٹ والے 59 سالہ ائیرپورٹ ٹیکسی ڈرائیور۔

2020 کے ابتدائی مہینوں میں، جب کوویڈ-19 ابھی گھر گھر کی کہانی ہونے کی بجائے زیادہ تر ایک بین الاقوامی خبروں کی کہانی تھا، یہ عالمی وباء Mr. Punian کی زندگی میں داخل بھی ہو چکی تھی۔ اس وقت، ٹی وی کی خبروں پر زیادہ تر کوویڈ-19 کی خبروں میں چین، اٹلی اور اسپین کے مناظر دکھائے جاتے تھے، یہ وہ ممالک تھے جو کیسز میں اضافہ ہونے کے ساتھ لاک ڈاؤن میں جانا شروع ہو گئے تھے۔ کچھ ڈرائیور ان جگہوں سے آنے والے ہوائی مسافروں کو بٹھانے سے انکار کر دیتے تھے، لیکن Mr. Punian کا مزاج اس قسم کا نہیں تھا۔ بلکہ وہ خود اُن کا سامان اپنی کار کے ٹرنک میں لاد کر اُن کو پیچھلی سیٹ کی طرف لے کر جاتے تھے۔ اس کے کئی ماہ بعد گریٹر ٹورنٹو ائیرپورٹ اتھارٹی نے ڈرائیوروں کو ذاتی حفاظتی سازو سامان مہیا کرنا شروع کیا اور تب تک ڈرائیور خود ہی اپنی گاڑیوں میں پلاسٹک کی شیلڈیں لگاتے تھے۔

مارچ کے تیسرے ہفتے تک، Mr. Punian کو فلو جیسی علامات کا سامنا شروع ہوا اور انہوں نے گاڑی چلانا بند کر دیا۔ وہ جس گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے تھے اس کے تہہ خانے میں قرنطینہ میں چلے گئے، ان کی بیماری میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ سانس لینے میں دقت کے ساتھ، انہیں بریمپٹن سوک لے جایا گیا، پھر ٹورنٹو جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پر 4 مئی کو ان کی موت واقع ہو گئی۔

ان کے بہنوئی Birender Maan نے بتایا کہ Mr. Punian اپنے کنبے کی تین نسلوں کے لیے مکان مہیا کرنے پر فخر محسوس کرتے تھے – خصوصاً اپنی پوتی کے لیے جو ابھی گود میں تھیں۔ جب وہ شیر خوار تھیں تو Mr. Punian نے ان کے محافظ کا کردار سنبھال لیا۔

“وہ اپنی پوتی سے پیار کرتے تھے ناں؟” Mr. Maan کہتے ہیں۔ “جب وہاں کوئی بہت بڑا اجتماع ہورہا ہوتا تھا جہاں تمام بچے رقص کررہے ہوتے تھے اور موسیقی کی بلند آواز ہوا کرتی تھا، تو وہ اپنی پوتی کو اٹھا کر باہر چہل قدمی کو نکل جایا کرتے تھے۔”

Mr. Maan نے کہا کہ عام حالات میں ان کا غمزدہ کنبہ کئی دن تک اپنے گھر کے دروازے کھلے رکھتا اور آنے والوں کو چائے کی پیالیاں بے حساب پیش کی جاتیں۔ لیکن اب، گھر میں خاموشی تھی اور 400 کے قریب سوگواروں کو آخری رسومات کی آن لائن لائیو اسٹریم میں شرکت کا کہا گیا تھا۔

ائیرپورٹ ٹیکسی ایسوسی ایشن کے صدر Rajinder Aujla کے مطابق، اس عالمی وباء کی پہلی لہر میں 10 ائیرپورٹ ٹیکسی ڈرائیورز کوویڈ-19 سے فوت ہوئے۔ زندہ بچ جانے والوں میں سے 80 فیصد کو فضائی سفر میں کمی کی وجہ سے کام سے ہٹا دیا گیا۔ انہیں سرکاری امداد میں ملنے والے یہ 1,800$ ماہانہ اخراجات کو پورا کرنے کے قریب بھی نہیں پہنچ پاتے، لہذا بہت سوں نے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے دوسرے مارگیج یا قرض کی حد بڑھوانے کا سہارا لیا ہے۔

Mr. Aujla کا کہنا ہے، “کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ اتنے لمبے عرصہ تک چلے گا۔ میرے جاننے والے زیادہ تر لوگ اب بہت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔”

اپریل میں، کوویڈ-19 سے متاثرہ افراد کی آمد کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ہندوستان اور پاکستان سے آنے والی مسافر پروازوں پر ایک ماہ کے لیے پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو میڈیا میں بہت سراہا گیا۔ اس قسم کے بین الاقوامی سفر کا لازمی ہونا کس طرح ممکن ہے؟

لیکن L6P کے بہت سارے باشندوں کے لیے سفر کرنا – خاص کر ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان – واقعی بہت ضروری تھا۔ کچھ مسافر کینیڈا کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رجسٹرڈ طلبا تھے جن کا اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے ذاتی طور پر کینیڈا میں موجود ہونا ضروری تھا۔ دوسروں کو کئی سال انتظار کے بعد ورک پرمٹ جاری کیے گئے تھے۔ ایسے شوہر تھے جو اپنی بیویوں کے ساتھ دوبارہ اکٹھے ہونے جا رہے تھے، بچے والدین کے ساتھ اکٹھے ہونے جا رہے تھے، ایسے دادکے/نانکے تھے جو پہلی بار اپنے پوتے پوتیوں/ نواسے نواسیوں سے ملنے والے تھے۔

اگرچہ کوویڈ-19 کے کیسوں کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ بین الاقوامی سفر سے منسلک ہے، لیکن لازمی قرنطینہ کے لوازمات ہیں جو کہ L6P میں نئے آنے والوں کی مدد کرنے والوں کے لیے سب سے بڑی تشویش ہیں۔ Manvir Bhangu، پنجابی کمیونٹی ہیلتھ سروسز کی آپریشنز منیجر، کہتی ہیں کہ انہیں اور ایجنسی کے عملے کو آئے دن مقامی گھروں کے تہہ خانے میں غیر محفوظ “قرنطینہ ہوٹلوں” کے بارے میں کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ درجہ بند اشتہارات کے ذریعے وہ ارادتاً نئے آنے والوں کو - بالخصوص اسٹدی پرمٹ پر آئے ہندوستانیوں کو - حکومت کی جانب سے لازمی قرار دیا گیا قرنطینہ محفوظ طریقے سے مکمل کرنے کے لیے جگہ کی پیشکش کرتے ہیں۔ لیکن طلباء نے ایجنسی سے شکایت کی ہے کہ ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے ہیں اور ان کے یونٹ، جن کے متعلق انہیں تاثر دیا گیا تھا کہ وہاں الگ کمرے اور باتھ روم کی سہولیات ہوں گی، حقیقت میں دوسرے ایسے افراد کے ساتھ بانٹنے ہوتے تھے جن کو آئیسولیشن میں ہونا چاہیے۔

اس سال کچھ نئے آنے والے جو L6P میں پہنچے انہوں نے دی گلوب کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ انہیں اپنے نئے گھر میں پہنچنے کے ہفتوں بعد یہ معلوم پڑا کہ ان کا یہ محلہ ایک کوویڈ-19 ہاٹ سپاٹ تھا۔ دن کے وقت، ان کو نفیس کھانوں کے ڈبے یا آگ سے حفاظت کا سامان تیار کرنے والی فیکٹریوں سے وائرس کے خطرے کا سامنا ہوتا تھا۔ رات کے وقت، وہ گھنٹوں جاب سائٹس پر گزار کر ان سینکڑوں پوسٹنگز پر اپنی درخواستیں جمع کرواتے تھے جو اس کام سے متعلق ہوتی تھیں جس میں انہوں نے تربیت حاصل کی ہوئی تھی – آئی ٹی، سیلز، انجینئرنگ - جس سے وہ گھر سے محفوظ طریقے سے کام کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ رقم کما سکیں۔

L6P کے مشرقی حصے میں کیسلمور اور کلارک وے میں، ٹرک ڈرائیور Mr. Garg، Ms. Sharma جو ایک ریستوران کی منیجر ہیں اور ایک کزن جو کھانے کی خدمات سے متعلق کام کی ملازمت کرتے ہیں، کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ تینوں اپنی اپنی آمدنی میں سے حصہ ڈال کر اپنے تہہ خانہ اپارٹمنٹ کا 1,400$ کرایہ ادا کرتے ہیں، جو کہ ایک نو تعمیر شدہ سیمی کا حصہ ہے جس کے مالک پہلی نسل کے ہندوستانی تارکین وطن ہیں۔

Ms. Sharma ہر ماہ پنجاب میں اپنے خاندان کو چند سو ڈالر بھیجتی ہیں۔ کالج پروگرام مکمل کرنے کے بعد وہ 2017 میں یہاں آئی تھیں، انہوں نے اپنے اخراجات چلانے اور مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے لازم کام کا تجربے لینے کے لیے ریستوران کی نوکری کر لی۔ لیکن ان کے شعبے، الیکٹریکل انجینئرنگ، کی ملازمتیں بریمپٹن میں بہت کم ہیں، لہذا وہ، بہت سارے دوسرے لوگوں کی طرح، کئی سالوں سے کم اجرت والے ضروری کام کی ملازمت میں پھنسی ہوئی ہیں۔

اپنی پہلی ملازمت میں، جو ایک اور مقامی ہندوستانی ریستوران میں تھی، Ms. Sharma کے باس نے مہینوں تک ان کو تنخواہ سے کم ادائیگی کی اور اُس کے ذمے اِن کے ہزاروں ڈالر واجب ادا رہے۔ جب انہوں نے ہمت کر کے اس سے دو ٹوک بات کی تو اس نے دھمکی دی کہ ان کے خلاف حکومت کو رپورٹ کر دے گا کہ وہ نقد بخشش وصول کرتی رہی ہیں - اس نے کہا کہ آمدنی چھپانا ان کی مستقل رہائش کی درخواست کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

“کچھ مخصوص کمیونٹیوں کو کیسز گھڑنے اور اس قسم کے معاملات کرنے کا الزام دینا کسی کھیل تماشے جیسا لگتا ہے۔” Ms. Bhangu کہتی ہیں، “لیکن اس کو خود جھیلنا ایک بالکل مختلف چیز ہے جبکہ آپ جانتے ہوں کہ آپ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔”

***

جب بیشتر ملک جام ہو چکا تھا تب بھی بریمپٹن کس طرح پوری عالمی وباء کے دوران چلتا رہا، یہ سمجھنے کے لیے کسی کو بھی فقط یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کینیڈا کے ہائی ویز کو کوں استعمال کر رہا ہے۔ جبکہ 2019 سے لے کر 2021 تک غیر تجارتی ٹریفک میں تقریبا 90 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، اس عالمی وباء کے آغاز میں معمولی عرصے تک کمی رہنے کے بعد، ٹرکوں کے ہفتہ وار چکر اب پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئے ہیں۔

یہ تبدیلی بریمپٹن سے زیادہ شدت سے اور کہیں نہیں محسوس نہیں کی جا سکتی۔ ٹرکوں کی آمدورفت کی بات کی جائے تو پِیل سے گزرنے والی شاہراہیں اس براعظم کی مصروف ترین ہیں۔ ڈرائیور صرف ہوائی اڈے کے علاقے کے گوداموں سے ملک کے دوسرے حصوں میں سامان کی نقل و حمل ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہفتہ وار اربوں ڈالر کا سامان کینیڈا اور امریکہ کی سرحد کے دونوں طرف پہنچا اور لا رہے ہیں۔

Mr. Garg نے بتایا کہ اس عالمی وباء کے ابتدائی دنوں میں بہت ساری بڑی ٹرک کمپنیوں نے اپنے ڈرائیوروں کو چند مہینوں کے لیے ملازمت سے ہٹا دیا تھا، لیکن نسبتاً چھوٹے ادارے، جس قسم کے ایک ادارے کے پاس وہ کام کرتے تھے، بہت زیادہ مصروف ہو گئے۔ طلب اتنی زیادہ تھی کہ وہ بریمپٹن سے سالٹ لیک سٹی، یوٹاہ تک اور واپسی کےچھ روزہ سفر کر رہے ہوتے تھے، اور اس دوران وہ سب-وے کے سینڈوچز اور اپنی کیب میں رکھے برقی چولہے پر پکے ہوئے انڈے کھا کر گزارہ کرتے تھے۔ اب وہ روز امریکہ جا کر واپس آنے کا چکر کرتے ہیں، اور صرف اتواروں کو نیند پوری کرنے، چہل قدمی پر جانے یا Ms. Sharma کے ساتھ لگاتار نیٹ فلکس دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ملک کے دوسرے حصوں میں پرچون کی سرگرمیاں سست ہو گئیں تھیں جس سے ٹرک ڈرائیوروں اور فیکٹریوں اور گوداموں میں کام کرنے والوں کا کام بڑھ گیا۔ خریداری آن لائن پر منتقل ہو گئی جس نے نقل و حمل اور لاجسٹکس کو - جن کا زیادہ تر حصہ دور سے انجام نہیں دیا جاسکتا - اور بھی زیادہ ضروری بنا دیا۔

بریمپٹن کے رہائشیوں کو بھی چلتا رہنا پڑا۔ یونیورسٹی ہیلتھ نیٹ ورک کے گٹُّوسو سنٹر فار سوشل میڈیسن کے ایک تازہ تجزیے کے مطابق، ٹورنٹو اور پِیل ریجن کے تمام علاقوں میں سے L6P میں کام کے لیے مردم شماری کی تقسیم کے تحت بانٹے گئے دوسرے علاقوں میں جانے والے لوگوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ یہاں پر مینوفیکچرنگ، روزمرّہ ضروریات، تجارت، نقل و حمل اور سازوسامان بنانے میں ملازمت کرنے والوں کی مطلق تعدادیں بھی سب سے زیادہ تھیں۔

کارکنوں کی اکثریت کام کرنے کی جگہ پر جانے کے لیے کار استعمال کرتی ہے، اِن میں سے کچھ ان زیادہ خطرناک کار پُولوں کا انتخاب کرتے ہیں جو کہ واٹس ایپ گروپس یا کیجیجی اشتہارات کے ذریعہ چلائے جاتے ہیں، جہاں صارفین اپنے پاس پڑوس کے لوگوں کو L6P سے ایمیزون کے گودام تک لفٹ کی پیشکش کرتے ہیں۔

لیکن سفر کے عوامی ذرائع سب سے سستا انتخاب ہیں۔ مغربی بریمپٹن میں ایمیزون کے ہیریٹیج روڈ والے ڈسٹریبیوشن سنٹر میں شفٹ تبدیل ہونے کے دوران، ایسا بھی ہوتا ہے کہ 100 سے زیادہ افراد مشرق کی جانب جانے والی 511 زم بس میں سوار ہونے کے منتظر ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ڈسپوزایبل ماسک پہنتے ہیں اور اپنے کندھوں پر بیک پیک لٹکائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اکثریت کی عمر 20 کے پیٹے میں دکھائی دیتی ہے، لیکن 10 گھنٹے کی شفٹ کے بعد ان کے چہروں پر اپنی عمر سے تین گنا بڑے افراد جیسے دنیا سے بیزاری کے تاثرات ہوتے ہیں۔ L6P تک جانے کا سفر تین بسوں میں 94 منٹ کی مہم ہو سکتا ہے۔

مارچ میں، بریمپٹن ٹرانزٹ کے نو ڈرائیوروں کا کوویڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد شہری انتظامیہ نے اس لائن پر اپنی سروس مختصر عرصے کے لیے معطل کردی۔ وہ سب ہی 511 کے روٹ یا کسی ایسے روٹ پر گاڑی چلا رہے تھے جو اس روٹ سے مل جاتا تھا۔ ایک ڈرائیور، Dael Muttly Jaecques، فوت ہو گئے۔ سروس معطل کرنے کا فیصلہ ڈرائیوروں کی یونین کے اس خدشے کا اظہار کرنے کے بعد کیا گیا کہ ایمیزون کے ہیریٹیج روڈ سنٹر میں ممکنہ طور پر وباء کا پھیلاؤ، ڈرائیوروں میں بیماری منتقل ہونے کا ذریعہ بن رہا تھا۔

ایمیزون نے اپنی نجی بس سروس شروع کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگایا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ کارکنان اب بھی کام پر پہنچ سکیں۔ بدقسمتی سے، یہ صرف کچھ دن ہی چل پائی جس کے بعد اچانک ٹیسٹ کیے جانے سے ملازمین میں 200 سے زائد کوویڈ-19 کے کیسز پکڑے جانے پر پِیل پبلک ہیلتھ نے اس فُلفِلمنٹ سینٹر کو دو ہفتوں کے لیے بند کردیا۔

اس مرکز میں موجود ایک ملازم نے، جن کا نام نہ لینے پر دی گلوب نے اتفاق کیا ہے، سیلف آئیسولیٹ کرنے کے لیے طبی رخصت حاصل کرنے کا ایک طویل اور مشکل طریقہ کار بیان کیا جو کہ علامات ظاہر ہونے پر ملازمین کے طبی رخصت لینے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

گذشتہ موسم سرما میں ان ملازم کی والدہ جو کہ صف اول کی نگہداشت صحت کی کارکن تھیں، کوویڈ-19 کے باعث فوت ہوئیں۔ ان کے دادا دادی میں بھی یہ مرض منتقل ہوا تھا۔ یہ تینوں نسلیں اکٹھا رہ رہی تھیں اور مذکورہ ملازم کو اندیشہ تھا کہ شاید وہ بھی اس میں مبتلا ہیں۔ طبی رخصت حاصل کرنے کے لیے، کمپنی ان کے کنبے کے کوویڈ-19 کے ٹیسٹ کے نتائج کی شکل میں ثبوت درکار کرتی تھی۔ یہ ملازم جو اپنی والدہ کی موت کے سوگ میں تھے اور اپنے دادا دادی کو لے کر بار بار ہسپتال آنا جانا کر رہے تھے، جہاں وہ دونوں متعدد بار داخل ہوئے اور فارغ کردیئے گئے تھے؛ اب ان کا ضبط ختم ہو چکا تھا۔ ان کی چھٹی منظور ہونے میں تین ہفتے لگے - تین ہفتے بغیر تنخواہ کے۔

جب مارچ میں اس مرکز کو بند کر دیا گیا تو مذکورہ ملازم کا کہنا تھا کہ انہیں حیرت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا، “شاید اسی وجہ سے یہاں پر بہت سارے کیسز نکلے - کیوں کہ کوئی بھی میری طرح بغیر تنخواہ ملے اس پورے عمل سے نہیں گزرنا چاہتا۔”

جب یہ فُلفِلمنٹ سینٹر دوبارہ کھولا گیا تو سینکڑوں موسمی کارکنوں کو فارغ کر دیا گیا تھا، اور کمپنی نے مختلف داخلی راستوں سے عمارت میں داخل ہونے کے لیے ایک نیا پروٹوکول تشکیل دیا تھا۔ لیکن ہر کچھ دن بعد مذکورہ ملازم کو ایمیزون کی جانب سے ایک خودکار ٹیکسٹ موصول ہوتا تھا جس میں ان کو مطلع کیا جاتا تھا کہ ساتھی کارکنوں کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔ ایمیزون نے دی گلوب کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

24 اپریل کو، ہیریٹیج روڈ والے گودام اور ہمسایہ علاقے بولٹن میں ایک اور گودام کو جزوی طور پر بند کر دیا گیا - پِیل میں موجود 25 کام کرنے کی جگہوں میں سے دو کو 24 اپریل سے 11 مئی تک ایک نئے اصول کے تحت بند کر دیا گیا کہ جس بھی کاروبار کی جگہ پر پانچ سے زیادہ ٹیسٹ کے مثبت نتائج ہوں اس کو بند کر دیا جائے۔

Edesiri Udoh، جو بطور ہیلتھ پروموٹر ویلفورٹ کمیونٹی ہیلتھ سروسز کے ساتھ کام کرتی ہیں، جو L6P سمیت بریمپٹن کی متعدد کمیونٹیوں میں رسائی فراہم کرتا ہے، کہتی ہیں کہ کارکن اکثر ایجنسی کے عملے کو بتاتے ہیں کہ وہ چھٹی نہیں لے سکتے، یہاں تک کہ کوویڈ-19 کا ٹیسٹ کروانے کے لیے بھی نہیں۔ علامات کے حامل کچھ کارکنوں نے اعتراف کیا کہ ان کے آجروں نے انہیں بتایا تھا کہ وہ کچھ دیر کے لیے کام چھوڑ کر ٹیسٹ کروانے کے لیے جا سکتے ہیں لیکن توقع یہ ہے کہ وہ واپس آ جائیں گے اور نتائج کا انتظار کرنے کے دوران کام کرنا جاری رکھیں گے۔ جنوری میں، پِیل پبلک ہیلتھ نے ایسے لوگوں کے کیسز کا تجزیہ کیا جن کا کوویڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور انھیں معلوم ہوا کہ ان میں سے تقریبا ایک چوتھائی علامات کے آغاز کے بعد بھی کام پر جاتے رہے تھے۔

Ms. Udoh، Ms. Bhangu اور پیل کے چیف میڈیکل آفیسر، Lawrence Loh سمیت ہیلتھ کئیر کے بہت سے صف اوّل کے افراد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بریمپٹن میں کوویڈ-19 کے اعداد کو کم کرنے کے لیے پالیسی کی اکلوتی سب سے بڑی ضروری تبدیلی تنخواہ کے ساتھ بیماری کی رخصت دیا جانا ہے۔ اپریل میں، صوبے نے اس کے بجائے تین دن کی سہولت متعارف کروائی، جس کے متعلق صحت اور مزدوروں کے بہت سے نمائندے کہتے ہیں کہ یہ ناکافی تھی۔ اگر کوئی ملازم بیمار پڑ جائے یا کوویڈ-19 سے متاثرہ کسی فرد سے رابطے میں آجائے اور ان کو 10 دن کے لیے آئیسولیٹ ہونا ہو، تو چوتھے دن کیا ہوگا؟

پِیل پبلک ہیلتھ نے کارکنوں کی حفاظت کا ایک اور راستہ تلاش کیا ہے: ملازمت کی جگہوں پر ویکسین پہنچا کر۔ اپریل کے آخر میں، میپل لیف فوڈز اور میپل لاج فارمز نے اپنی فیکٹریوں میں موبائل ویکسینیشن کلینک کھول لیے۔ اگلے ہفتے، ایمیزون نے بھی ان کی پیروی کی۔ جن ملازم سے دی گلوب نے بات کی انہوں نے کہا کہ عملے کو ٹیکہ لگوانے کے بدلے 50$ کی پیش کش کی گئی۔

لیکن ان سرکاری و نجی شراکت داریوں کے ساتھ ساتھ، یہ احساس بھی پایا جا رہا تھا کہ بریمپٹن کو صوبائی سطح پر ویکسین پہنچائے جانے میں نظر انداز کیا جا رہا تھا۔ ابتدائی طور پر ان کو جتنی خوراکیں وصول ہوئیں، وہ جتنے فی کس اجراء کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا اس سے کم رہیں۔ مارچ کے شروع میں جن 325 فارمیسیوں نے ویکسین کی پیشکش شروع کی، ابتدائی طور پر ان میں سے کوئی بھی بریمپٹن میں نہیں تھی۔ اپریل میں، جب ٹورنٹو میں صوبائی طور پر شناخت کیے گئے کوویڈ-19 ہاٹ اسپاٹس میں 18 سال سے زیادہ عمر کے باشندوں کے لیے پاپ-اپ کلینکس کھولنا شروع کیا گیا، اس کے کئی ہفتوں بعد بریمپٹن کو ایسا کرنے کی صوبائی منظوری ملی، باوجود اس کے کہ یہاں مثبت کیسوں کی شرح کہیں زیادہ بلند تھی۔ 10 مئی تک، L6P میں 40 فیصد اہل رہائشی ویکسین کی اپنی پہلی ڈوز لگوا چکے ہیں۔

***

اپریل کے آخر میں، Dr. Suppal کی ایک پرانے مریض کے ساتھ فون پر اپوائنٹمنٹ تھی جن کا کوویڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ یہ صاحب اور ان کی اہلیہ ایک مکان میں رہتے تھے جس کے تہہ خانہ اپارٹمنٹ میں ان کی بیٹی، داماد اور دو نواسے نواسیاں رہتے تھے۔

Dr. Suppal پر یہ بات فوری طور پر واضح ہوگئی تھی کہ ان کے اس مریض کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی - وہ بمشکل ایک جملہ بھی ادا نہیں کر پا رہے تھے۔ “آپ کو ہسپتال جانا ہو گا۔ آپ کو ایمبولینس بلوانے کی ضرورت ہے۔” انہوں نے ان کو بتایا۔

ان صاحب کی اہلیہ کوویڈ-19 کو گھر لانے کا سبب بنی تھیں – ان کو یہ اس ڈسٹری بیوشن سینٹر میں لگا تھا جہاں پر وہ کام کرتی تھیں – اور ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ ان کو لے کر جا سکتیں۔

“ٹھیک ہے، کیا میں اپنی بیٹی سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ گاڑی چلا کر محھے لے جائے؟” مریض نے خُرخراتی آواز میں کہا۔

Dr. Suppal نے سمجھایا کہ چونکہ ان کی بیٹی اور اس کے اہل خانہ سب صحت مند ہیں، اس لیے وہ ان کے وائرس کی زد میں آنے کا خطرہ مول لیں رہے ہوں گے۔ بالآخر ان کو ایمبولینس کے ذریعہ بریمپٹن سوک اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ان کو ڈیکسامیتھاسون اور آکسیجن دی گئی۔ اگلی صبح Dr. Suppal کو ایک پیغام ملا کہ ان کے مریض کو، جن کی حالت اب سنبھل چکی تھی، 110 کلومیٹر دور سینٹ کیتھرائنز، اونٹاریو کے ایک ہسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا، کیونکہ بریمپٹن سوک کو بستر کی ضرورت تھی۔ اپریل سے، ہر ہفتے اوسطاً 116 مریضوں کو بریمپٹن سے باہر اونٹاریو کے دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

موقع پر ایمبیسی گرینڈ ٹیسٹنگ سینٹر میں Dr. Suppal نے کبھی کبھی ایک ہی گھر کے سات افراد تک کو دیکھا - یعنی ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے دادا دادی، والدین اور بچے۔ (اگرچہ کینیڈا میں اوسط گھرانے کی تعداد 2.4 ہے، L6P میں یہ 4.4 ہے، جو ٹورنٹو اور پِیل ریجن کے کسی بھی پوسٹل کوڈ میں سب سے زیادہ ہے۔) ان میں سے کچھ رہائشی حالات تو ذاتی انتخاب کے تحت ہیں، لیکن بہت ساروں میں یہ ایک مجبوری ہے: بچوں کی دیکھ بھال ناقابلِ رسائی حد تک مہنگی ہوسکتی ہے، اور معمر افراد کے رہنے کے ثقافتی لحاظ سے مناسب یا سستے انتخابات محدود ہیں۔

ان کثیر النسل گھروں میں Dr. Suppal کو پیچیدہ عوامل کا سامنا کرنا پڑا جو بیماری سے ہٹ کر تھے۔ بریمپٹن کے ایک بڑے ڈسٹریبیوشن سنٹر میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کرتے ہوئے، انہوں نے ملازمین کو آگاہ کیا کہ اگر ان کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آئے تو ان کو چاہیے کہ اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کی حفاظت کے لیے حکومت کی مالی معاونت سے فراہم کیے جانے والے آئیسولیشن ہوٹلوں سے استعادہ کریں۔ لیکن بہت سی جنوبی ایشیائی خواتین نے ان کو بتایا کہ ان کے سسرال والے اس کی اجازت نہیں دیں گے، چاہے وہ بیمار بھی ہوں۔

انہوں نے کہا، “ہماری ثقافت میں بعض اوقات یہ توقع ہوتی ہے کہ ‘کھانا کون پکائے گا، اور ان کے بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گا، اور گھر کون صاف کرے گا؟”

انہوں نے L6P میں رہنے اور صفِ اوّل میں کام کرنے سے یہ بھی جانا ہےکہ میڈیا پر چھائے ہوئے بیانیے کے باوجود، کوویڈ-19 صرف کام کرنے کی جگہ پر زد میں آنے کے ذریعے ہی نہیں پھیلتا ہے۔

تیسری لہر کے آنے تک، L6P کے رہائشی Yudhvir Jaswal، جو کہ Y میڈیا کے سی ای او اور ممتاز ہندی، اردو، پنجابی اور انگریزی ناشر ہیں، کو معمول میں سامعین سے یہ سننے کو ملتا تھا کہ کوویڈ-19 کے بارے میں خبروں کو غیر ضروری بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ کئی لوگ Mr. Jaswal کے پروگرام سننے کے ساتھ ساتھ وطن سے آنے والی خبروں پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے، اور مرض کی تازہ ترین تبدیل شدہ شکل کی لہر کے حملہ آور ہونے تک، تاثر یہ تھا کہ کینیڈا کی حکومت پابندیاں لگا کر ضرورت سے زیادہ ردِّعمل دے رہی ہے۔

بلکہ ایک مہینہ پہلے تک ہی، بھارت میں موجودہ لہر کے ابتدائی مراحل میں – جس نے روزانہ ہزاروں اموات دکھا دی ہیں اور بھارت کے نگہداشتِ صحت کے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے – Mr. Jaswal نے کہا کہ کبھی کبھی ٹی وی کی اسکرینوں پر موجود تصاویر اور جو کچھ لوگ وطن میں موجود اپنے گھر والوں سے سن رہے تھے، کے مابین کوئی ربط نظر نہیں آتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ اطلاعات صورتحال کا اندازہ لگانے میں ان لوگوں کی مدد کرنے میں خبروں سے زیادہ وزن رکھتی تھیں۔ جب یہ اُن سے روزانہ انفیکشن کی شرح یا اموات کی تعداد کے بارے میں سوال کرتے تو وہ جواب دیتے، “نہیں، نہیں، نہیں، نہیں، ہم نہیں جانتے کہ ایسا کہاں ہو رہا ہے۔ شاید مہاراشٹر یا دہلی میں ہو، لیکن پنجاب میں تو سب اچھا ہے۔ "

انہوں نے اپنے کچھ پڑوسیوں کے بارے میں کہا کہ؛ “ایک وقت تھا جب لوگ کہا کرتے تھے، ‘کوویڈ کچھ بھی نہیں ہے۔’ وہ اب بھی ہر روز پارٹیاں کر رہے ہیں۔”

پراپرٹی ڈیلر اور مقامی پنجابی ریڈیو میزبان Deepak Punj، جو L6P کی مشرقی سرحد پر، چار بیڈروم کے علیحدہ گھروں کی قطار والی ایک گلی میں رہتے ہیں، نے بتایا کہ گزشتہ موسم گرما تک لاک ڈاؤن کا ڈر ختم ہو چکا تھا۔ قریب ہی ایک خاندان نے اپنے گھر کے اندر 40 افراد کے لیے ایک پارٹی کا اہتمام کیا، اور اگرچہ یہ اور اِن کے پڑوسی اس کے متعلق جانتے تھے، کسی نے اس کی رپورٹ نہیں کی۔ ستمبر میں اونٹاریو میں دوسری لہر کے آغاز پر، ایک ممتاز رہائشی، جن کا خاندان ایک منافع بخش ٹرانسپورٹیشن کمپنی کا مالک ہے، نے ایک انتہائی شاندار کثیر روزہ شادی منعقد کی، جہاں 100 سے زائد مہمان ایک خیمے کے اندر یا اس کے بہت قریب جمع ہوئے، ان میں سے زیادہ تر نے نقاب نہیں پہنے ہوئے تھے۔

Mr. Punj نے کہا کہ، “ہماری کمیونٹی میں قوانین توڑنے پر فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی قسم کے وی آئی پی ہیں۔”

Dr. Suppal اکثر اس ماسک اور شیلڈ کی شکر گزار رہتی ہیں جو ان کے چہرے کو ڈھانپ دیتے ہیں، یوں ٹیسٹنگ سینٹر میں وہ جن لوگوں کو دیکھتی ہیں، وہ اُس وقت اِن کے تاثرات کو نہیں دیکھ سکتے جب وہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ اُن کے خیال میں وہ کس طرح زد میں آئے ہوں گے: کسی دوست کے ساتھ بغیر ماسک کے گاڑی چلانا، کسی ڈنر پارٹی یا کسی اور ممنوعہ سماجی سرگرمی میں شرکت کرنا۔

انہوں نے کہا کہ، “میں یہ کہنا نہیں چاہتی لیکن مجھے لگتا ہے کہ سرعام یہ چل رہا ہے کہ، ‘ہم اصولوں کی نہیں سُنیں گے، وہ ہم پر لاگو نہیں ہوتے’، یہاں آپ ڈرائیو ویز میں ایسی متعدد کاریں دیکھتے ہیں جو وہاں سے تعلق نہیں رکھتی ہیں، ایسے اجتماعات جو وہاں سے تعلق نہیں رکھتے۔”

6 مئی کو، پِیل نے 18 سال سے زیادہ عمر کے ہر فرد کے لیے ویکسین کی بکنگ کھول دی، اس کو بہت سراہا گیا۔ کینیڈا کے کتنے ہی باسیوں کو، ویکسین ہی وبا سے نکلنے کا راستہ دکھائی دیتی ہے، اس زندگی کی طرف واپس جانے کا راستہ جس کو کوویڈ-19 نے جام کر دیا تھا۔ لیکن Mr. Garg اور Ms. Sharma کے روزمرہ کے معمولات میں بہت کم تبدیلی آئے گی۔ انہیں امید ہے کہ وہ آخر کار اس سال شادی کر لیں گے لیکن انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ ہوائی سفر کر کے پنجاب جانا یا اپنے اہل خانہ کو یہاں بلانا کب محفوظ ہوگا۔

یہ جوڑا کسی اتوار کے روز، جو Mr. Garg کی چھٹی کا دن ہے، ایک ساتھ اپنی ویکسین کی اپوائنٹمنٹس بک کرنا چاہتا ہے، تاکہ وہ گھر پر آرام کر سکیں اور ضمنی اثرات کا سامنا ہونے کی صورت میں ایک دوسرے کی دیکھ بھال کر سکیں۔ اگلی صبح، Mr. Garg ٹرک یارڈ سے اس دن کا سامان اٹھانے کے لیے صبح 3 بجے گھر سے نکلیں گے۔ Ms. Sharma اپنے ریستوران میں گاہکوں کو اپنی ناک پر اپنے ماسک کھینچنے کی یاد دلاتے ہوئے اپنے ماسک کے پیچھے سے میٹھے سے انداز میں مسکرائیں گی۔ وہ کام پر واپس جائیں گے۔

Gundeep Singh اور Chen Wang کی رپورٹوں کے ساتھ

Your Globe

Build your personal news feed

Follow the author of this article:

Follow topics related to this article:

Check Following for new articles