Skip to main content

Dr. Raj Grewal, Medical Director of the COVID-19 testing centre at the Embassy Grand Convention Centre in Brampton, Ont., on May 12, 2021.Fred Lum/The Globe and Mail

ایک ایمرجنسی فزیشن کی حیثیت سے Raj Grewal جانتے ہیں کہ جب زبان کی مشکلات راہ میں حائل ہوں تو طبی امداد حاصل کرنا کس قدر مشکل ہو سکتا ہے۔اس کا مشاہدہ وہ ہیملٹن ہیلتھ سروسز میں اپنے جنوبی ایشیائی مریضوں میں ہر وقت کرتے ہیں – ان کے چہروں پر آ جانے والی وہ راحت جب وہ انگریزی چھوڑ کر پنجابی بولنا شروع کرتے ہیں کہ اب آخر کار وہ کسی سے اس زبان میں بات کر سکتے ہیں جس کو وہ خود سمجھ سکتے ہیں۔

بریمپٹن کے علاقے L6P میں جہاں Dr. Grewal نے پرورش پائی، عالمی وباء کے دوران زبان کی یہ رکاوٹ شدت سے اثرات انداز ہو رہی تھی۔ L6P کے تقریباً 60 فیصد رہائشی جنوبی ایشیائی ہیں، اور کوویڈ-19 کی مثبت ہونے کی شرح 20 فیصد ہونے کے ساتھ – جو کہ صوبے کی اوسط کے تین گُنا سے بھی زیادہ ہے – وہ جانتے تھے کہ ٹیسٹنگ اور عوامی صحت کے دیگر اقدامات کے متعلق پیغام کو ان زبانوں میں عام کرنا جن کو مقامی کمیونٹی کے ارکان سمجھ سکتے ہوں بے حد اہم تھا۔

نومبر میں، انہوں نے اپنی ریسپرالوجسٹ اہلیہ Dr. Anju Anand اور اپنی والدہ Paramjit Kaur Grewal – جو کہ اب بھی L6P میں رہتی ہیں – کے ساتھ مل کر، پنجابی میں یہاں کے رہائشیوں کے لیے ہدایات پر مبنی ایک مختصر ویڈیو بنائی کہ اپنا ٹیسٹ کس طرح کروایا جائے۔ پھر انہوں نے اس کو WhatsApp کے ذریعے پھیلا دیا جو کہ جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں مقبول ترین میسجنگ پلیٹ فارم ہے۔ اس ویڈیو کو سینکڑوں مرتبہ شیئر کیا گیا۔ بلکہ خود Dr. Grewal کو ان کے کئی عزیزوں نے یہ ویڈیو بھیجی۔

اس کے بعد سے، یہ 46 سالہ فزیشن، تباہ حال L6P میں عالمی وباء سے لڑنے والی ایک کلیدی شخصیت بن گئے ہیں۔ اس ویڈیو کی کامیابی کے ساتھ انہوں نے دوسروں کے ساتھ مل کر ساؤتھ ایشین کوویڈ ٹاسک فورس کی بنیاد رکھی، جس کا مشن تارکِ وطن کمیونٹیوں کو بطور مخصوص ہدف لے کر عوامی صحت کے پیغامات بنانا، غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دینا اور مزید معاونت کیے جانے کے حق میں آواز بلند کرنا ہے۔ اور جنوری میں وہ نئے قائم شدہ ایمبیسی گرینڈ ٹیسٹنگ سینٹر کے میڈیکل ڈائریکٹر بن گئے، ایک نجی طور پر چلائی جانے والی ٹیسٹنگ سائٹ جس کو اونٹاریو ہیلتھ کی مالی معاونت حاصل ہے اور L6P کے قلب میں واقع ہے جہاں کئی لوگ لازمی کاموں پر مبنی ملازمت کرتے ہیں اور کئی نسلیں ایک گھر میں رہتی ہیں، جو کہ ان کو اس وائرس میں مبتلا ہو جانے کے شدید ترین خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں-

اور یہ سب انہوں نے میک ماسٹر یونیورسٹی میں بطور ایمرجنسی ڈاکٹر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کام کرنے کے ساتھ ساتھ کیا۔

“میں ایک عملی انسان ہوں” Dr. Grewal کہتے ہیں۔ “میں سمجھ گیا تھا کہ مجھے آگے بڑھ کر مدد کرنا ہو گی۔”

پانچ ماہ قبل ایمبیسی گرینڈ والی سائٹ کھلنے کے بعد سے، یہ اِس صوبے کے مصروف ترین ٹیسٹنگ سینٹروں میں سے ایک بن چکا ہے۔ اس کی کامیابی کی کنجی اس کا کئی زبانوں والا فون کا اور آن لائن نظام ہے جو رہائشیوں کو ہندی، پنجابی، گجراتی اور اردو میں بکنگ کروانے کا آپشن فراہم کرتا ہے۔

Lawrence Loh جو کہ پِیل کے علاقے کے میڈیکل آفیسر برائے صحت ہیں، کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے ساتھ خلاء کو پُر کرنے اور لوگوں کے ٹیسٹ کیے جانے کے اعداد کو اوپر لانے میں Dr. Grewal کا کام ناگزیر حدد تک اہم رہا ہے۔ “ہم نے ان کی سائٹ کے ذریعے ٹیسٹنگ کی جانب متوجہ ہونے میں اضافہ دیکھا ہے،” Dr. Loh کہتے ہیں۔ “Raj طبی اور ثقافتی مہارت کو ایک ہی شخصیت میں اکٹھا کر دیتے ہیں۔ یہی وہ اصل وجہ ہے جس نے ان کو اس قدر مؤثر بنا دیا ہے۔ وہ ایک اہم قائد ہیں۔”

اچھا بدلہ دینے کا نظریہ Grewal خاندان میں بہت پختہ ہے۔ ان کے والدین جب پنجاب سے کینیڈا منتقل ہوئے تھے تو ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور وہ L6P کے ایک رش بھرے گھر میں Raj کے دادا دادی اور انڈیا سے آئے بھانت بھانت کے مہمانوں کے ساتھ مل کر رہتے تھے۔ ان کی والدہ نے پِیل میں پھیلے کئی نرسنگ ہومز میں 15 سال رضا کاری کرتے گزارے اور سیوا کے نظریے کو – جو کہ سکھ مذہب کا ایک اہم عقیدہ ہے جس کا مطلب ہے صلے کی توقع کیے بغیر دوسروں کی مدد اور خدمت کرنا - اپنے بیٹے کے ذہن میں پختہ کیا-

Raj کبھی بھی سخت محنت سے نہیں گھبرائے۔ یونیورسٹی کے پورے دور میں، انہوں نے کینیڈین ٹائر کے مال خانے میں کام کیا، فرش صاف کیے اور ہاتھوں سے مزدوری کی – ایک ایسی ملازمت جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اس نے ان کو ہر کسی کو، آمدنی اور حیثیت سے قطع نظر، برابر سمجھنے میں مدد دی۔ “میں کسی سے برتر یا کمتر نہیں تھا،” Dr. Grewal کہتے ہیں۔ “اب بھی میں فرش دھونے پر بخوشی تیار ہوں۔ مجھے کوئی بھی کام دے دیں۔ میں کر کے دکھانے پر یقین رکھتا ہوں۔”

میڈیکل اسکول جانا شروع کرنے سے پہلے انہوں نے پورا ایک سال انڈیا میں بھی گزارا، جہاں پر انہوں نے کیرالہ میں بطور ٹور بوٹ آپریٹر کام کیا اور کئی ہفتے رکشہ چلاتے گزارے، صرف اس کوشش میں کہ اپنے ساتھی انسانوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔

“ان کی رحم دلی کی وجہ اس بات کو حقیقی طور پر سمجھ لینا ہے کہ جو کچھ سامنے نظر آ رہا ہے حقیقت اس سے بڑھ کر ہے۔ وہ ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ لوگ کیا ہیں،” ان کی اہلیہ Dr. Anand بتاتی ہیں۔

ایک اہم موڑ 2017 کے شروع میں آیا، جب Dr. Grewal کے چھوٹے بھائی Nardeep کی خودکشی سے موت واقع ہوئی۔ “وہ مشکلات میں گھرے تھے، لیکن وہ ایک زبردست انسان تھے۔ ان میں پیار بھرا ہوا تھا،” Dr. Grewal آنسوؤں پر قابو پاتے ہوئے کہتے ہیں۔ “مجھے اپنے مریضوں میں ان کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں، اور یوں میرا اس بات کو یقینی بنانے کو دل چاہتا ہے کہ لوگ تکلیف میں نہ رہیں۔ جو کچھ میں یہاں کر رہا ہو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اُن کے لیے ہے۔”

Kuldeep Sidhu جو کہ ہیملٹن ہیلتھ سائنسز میں چیف آف ایمرجنسی میڈیسن اور Dr. Grewal کے استاد ہیں، ان کے بارے میں مانتے ہیں کہ انہوں نے کسی کے حق میں آواز بلند کرنے کے کام میں اپنا راستہ بنا لیا ہے اور ان کا حق بنتا ہے کہ اونٹاریو ہیلتھ، لوکل ہیلتھ انٹیگریشن نیٹ ورک اور بریمپٹن کی شہری انتظامیہ کے تھکا دینے والے تقاضوں سے نمٹنے میں مدد دینے پر ان کی خدمات کو تسلیم کیا جائے۔

“اس مشکل گھڑی میں انہوں نے جس قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس سے بے نیاز ہیں،” Dr. Sidhu کہتے ہیں۔ “وہ بس کام کرتے ہیں۔”

Dr. Grewal کے سابق شاگردوں میں سے ایک Deshminder Singh Sachdev – جو اب ان کے پرانے پروفیسر کے ساتھ ہیملٹن ہیلتھ سائنسز میں کام کرتے ہیں اور جنہوں نے ان کے ساتھ مل کر ٹاسک فورس کی بنیاد رکھی تھی –ان مشکلات سے نمٹنے میں صف اول میں رہے ہیں جن سے Dr. Grewal نے نمٹنے کا عزم کیا، اپنے آواز بلند کرنے کے کام اور مریضوں دونوں کے حوالے سے۔ “وہ اس قسم کے انسان ہیں کہ جب وہ کسی مسئلے کے حل کا عزم کر لیں، تو اس سے نمٹنے کے لیے درکار ہر چیز کر گزریں گے۔” Dr. Sachdev کہتے ہیں۔

طب کے علاوہ Dr. Grewal نے 14 سال بوائے اسکاؤٹس کے رکن کے طور پر گزارے، اس ادارے کے نعرے کو عملی شکل دیتے ہوئے کہ، “میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اپنی بہترین کوشش کروں گا۔۔۔ کہ ہر موقع پر دوسروں کی مدد کروں۔” جب وقتِ ضرورت باقی سب کسی اور کے آگے بڑھنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، Dr. Grewal کی مدد کر نے کی کبھی نہ ختم ہونے والی خواہش کا اکثر مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ہاتھ کھڑا کر دینے والے پہلے فرد ہوتے ہیں۔

“میں آنے والی نسل اور خود اپنے بچوں کے لیے ایک مثال بننا چاہتا ہوں کہ کس طرح برتاؤ کرنا ہے، دوسروں کی مدد کرنی ہے اور ایک اثر چھوڑنا ہے۔” وہ کہتے ہیں۔

جبکہ Dr. Anand امید کرتی ہیں کہ یہ عالمی وباء جلد ختم ہو جائے تاکہ ان کے شوہر آخر کار آرام کر سکیں، Dr. Grewal کہتے ہیں کہ اس تجربے نے ان کے اندر ایک آگ روشن کر دی ہے۔ بے شک اپنی اُس زندگی میں واپس جانا اچھا ہو گا جس میں وہ پہاڑ چڑھا کرتے تھے اور اپنے سبزیوں کے باغ کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ لیکن پچھلے 14 ماہ کے دوران انہوں نے سیکھا ہے کہ اس صوبے میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کو بہتری کی ضرورت ہے۔

“ہمیں ایسے مزید لوگوں کو لانے کی ضرورت ہے جو ہماری نمائندگی کریں – نسلی شناخت والے لوگ جو فیصلے کر رہے ہوں،” ان کا کہنا ہے۔

وہ جو بھی کرنے کا فیصلہ کریں، Dr. Anand جانتی ہیں کہ جس شخص کا خیال ہر وقت ان کے خاوند کے ذہن میں رہتا ہے، وہ کمیونٹی کی سیوا کرنے پر ان کے شکر گزار ہوں گے۔ “میں جانتی ہوں کہ ان کے بھائی کو ان پر بہت، بہت فخر ہو گا۔”