Skip to main content

.Outside 165 Kennedy Road South, in Brampton, where Vrunda Bhatt livesBaljit Singh/The Globe and Mail

Vrunda Bhatt بریمپٹن سے تعلق رکھنے والی ایک فری لانس صحافی ہیں جنہوں نے دی گلوب کے L6P پراجیکٹ کی رپورٹنگ میں حصہ ادا کیا ہے۔

جب مارچ 2020 یہ عالمی وباء پھیلی تو میں کمیونیکیشنز اور مارکیٹنگ میں ملازمتیں تلاش کر رہی تھی، اس بات سے بے خبر کہ ملازمتوں کی منڈی ٹوٹنے والی تھی کئی لوگوں کو ملازمت سے ہٹا دیا جائے گا۔ میرے شوہر جو کہ ٹورونٹو میں ایک غیر منافع بخش ادارے میں کام کرتے ہیں، ان کو مطلع کیا گیا کہ اب وہ، بہت سارے دیگر لوگوں کی طرح، گھر سے کام کریں گے۔ وہ اس پر کافی خوش تھے، کیونکہ اب مزید ان کو ایگلنٹن ایسٹ تک پورے راستے تعمرات سے بھرا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔

ہم جنوبی بریمپٹن میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں میرے 23 سالہ دیور کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ ایک بہت کثیر ثقافتی جگہ ہے جہاں پر آپ سفید فام رہائشیوں کی تعداد کو اپنی انگلیوں پر گِن سکتے ہیں۔ ہمارا اپارٹمنٹ گزشتہ تین سال سے ہمارا گھر ہے، جب سے میرے شوہر اور میرے دیور کینیڈا کی اس نئی سرزمین پر منتقل ہوئے – میرے پہنچنے سے ایک سال قبل۔

ہماری بلڈنگ کی تقریباً بارہ منزلیں ہیں اور ہر منزل پر 16 یونٹ۔ فرض کیا جایے کہ ہر اپارٹمنٹ میں کم از کم تین افراد رہ رہے ہیں، تو صرف اس بلڈنگ میں ہی لگ بھک 600 افراد رہ رہے ہیں - جن میں بچے، بزرگ شہری اور صف اول کے کارکن شامل ہیں – یہ سب مل جل کر مشترکہ حصوں، لانڈری ایریا اور دیگر استعمال کرتے ہیں۔ بلڈنگ کی اچھی دیکھ بھال نہیں کی جاتی ہے - یہ چیز عالمی وباء کے دوران ایک بڑی تشویش بن گئی، جب صفائی کے بہتر پروٹوکول اور رہائشیوں کی فلاح کے دیگر طریقوں پر توجہ کیا جانا مدد گار ہو سکتا تھا۔

گزشتہ سال کے وسط میں، عین عالمی وباء کے دوران، ہم ایک صبح اٹھے تو بغیر پہلے نوٹس دیے پانی مکمل بند کر دیا گیا تھا – اور مسلسل تین دن تک اس کو دوبارہ بحال نہیں کیا گیا۔ ہم وال مارٹ سے پانی کے کچھ جگ حاصل کر پائے تھے اور اگلے دن میری بہن کے گھر کے تہہ خانے میں منتقل ہو گئے۔ بلڈنگ میں موجود بہت سارے دیگر لوگوں کے مقابلے میں جن کے پاس جانے کو کوئی اور جگہ نہ تھی، میں خوش نصیب تھی کہ - کسی ہوٹل کو سینکڑوں ڈالر ادا کرنے کے بجائے - میرے پاس جانے کے لیے ایک رشتے دار کا گھر تھا- اس پورے تجربے نے مجھے سکھلایا کہ ہماری بلڈنگ کی انتظامیہ کو کس قدر کم پرواہ تھی – اور آگے بڑھ کر مجھے اس کا ادراک ہونے والا تھا کہ اس قسم کی بے حسی کس قدر شدید ہوتی ہے جب میرے شوہر اور میں کوویڈ-19 میں مبتلا ہوئے۔

اس گزشتہ فروری میں میرے شوہر کوویڈ کا نشانہ بن گئے۔ میرا اندازہ ہے کہ ایسا وال مارٹ یا اس انڈین اسٹور میں جانے سے ہوا ہو گا جہاں سے ہم عام طور پر اپنا سودا سلف لیتے تھے۔ میرے دیور کے اور میرے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آیا، اور خوش قسمتی سے میرے شوہر تقریباً دو ہفتے کے اندر صحت یاب ہو گئے، لیکن میں ان کے متعلق بہت فکر مند تھی۔ ہم نے مل کر اس کا سامنا کیا، لیکن انڈیا میں اپنے والدین کو یا کہ کینیڈا میں اپنے کئی دوستوں تک کو بھی اطلاع نہیں کی – ہم ان کو پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے۔

گزشتہ ماہ، ٹورونٹو میں ایک غیر منافع بخش ادارے کے ساتھ میرا مختصر مدت کا معاہدہ تکمیل کو پہنچا اور میں دوبارہ ملازمت تلاش کرنے میں لگ گئی۔ یہ آسان کام نہیں ہے، خاص طور پر ایک عالمی وباء کے دوران، اور میں سوچا کرتی تھی کہ کیا مجھے اپنا سامان باندھ کر کچھ عرصے کے لیے انڈیا میں اپنے والدین کے ساتھ رہنے کے لیے چلے جانا چاہیے۔ لیکن تب ہی انڈیا کوویڈ کے بڑھتے کیسوں کی وجہ سے اچانک توجہ کا مرکز بن گیا، جس کے ساتھ ہی پروازیں منسوخ ہو گئیں اور ہماری وطن کے اندر گھر میں کی جانے والی ویڈیو کالز اپنے جاننے والوں کے اپنے عزیزوں کو کھو دینے کی دلخراش خبروں سے بھر گئیں۔ حتیٰ کہ میری سوشل میڈیا کی فیڈز میں بھی لوگ صرف اس بارے میں بات کرتے تھے کہ وہاں پر کیا ہو رہا تھا، اور کے علاوہ کسی بارے میں نہیں۔

لہٰذا جب مجھے 25 اپریل کو شدید تھکاوٹ کا احساس ہوا تو میں نے جو کچھ وطن میں ہو رہا تھا اس کی پریشانی کو قصور وار ٹھہرایا، جبکہ میرے شوہر کا خیال تھا کہ شاید یہ اس غیر ضروری وقت کی وجہ سے تھا جو میں آن لائن گزار رہی تھی۔ لیکن اگلے دن، مجھے تیز بخار ہو گیا اور میں کھانسنا شروع ہو گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب ہم سمجھ چکے تھے کہ مجھے ٹیسٹ کرونا ہو گا۔ ہم نے بریمپٹن میں ایمبیسی گرینڈ کنوینشن سنٹر میں اپوائنٹمنٹ بُک کروائی۔ قطار میں میرے سے آگے ایک مسلمان ماں اپنے تین بچوں کے ساتھ تھیں اور میرے بالکل پیچھے پانچ افراد پر مشتمل ایک سیاہ فام خاندان تھا۔ مجھے پر انکشاف ہوا کہ بے شک ہم سب اس میں ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔

ایک دن گزر گیا اور نتائج ابھی تک نہیں آئے تھے۔ اگلے دن، میرے شوہر نے آن لائن دیکھا اور سمجھے کہ یہ منفی آیا تھا – لیکن انہوں نےتاریخ پڑھنے میں غلطی کی تھی؛ یہ فروری والا ایک سابقہ ٹیسٹ تھا۔ معلوم ہوا کہ میں مثبت ہی پائی گئی تھی۔ میرے ذہن میں خیالات کا تانتا بندھ گیا کے یہ مجھے کس طرح لگا ہو گا – کئی دن تک بغیر کہیں جائے یا بغیر کسی سے ملے کوویڈ کس طرح مجھ میں منتقل ہو سکتا تھا؟

مجھے اعتراف کرنا ہو گا کہ مجھے بہت زیادہ احساس جرم ہو رہا تھا۔ کیا میں نے گھر میں صفائی ستھرائے کے درست طریقے برقرار نہیں رکھے تھے؟ اگر میری پکی نوکری ہوتی تو کیا ہم کسی بہتر دیکھ بھال کے ساتھ رکھی گئی یا کم رش والی بلڈنگ میں اپارٹمنٹ لے سکتے تھے؟ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران میرا خاندان صحت سے متعلق بہت سارے مسائل سے گزرا ہے – شاید ہم نے خداؤں سے پوری توجہ کے ساتھ دعا نہیں مانگی تھی؟

اگرچہ مجھے میرے نتائج 28 تاریخ کو مل گئے تھے، مجھے اس کے بعد والے پیر کے دن – یعنی پانچ دن بعد تک عوامی صحت کے افسران کی جانب سے کوئی کال موصول نہیں ہوئی۔ میں نے کال کرنے والے سے اپنی بلڈنگ میں صحت اور حفاظت کے باقاعدہ پروٹوکول نہ ہونے کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا – اور اس بارے میں کہ کس طرح رہائشیوں کو اس جگہ پر وباء کے پھیلنے کے متعلق اطلاع نہیں دی گئی۔

جب میرے شوہر کوویڈ میں مبتلا تھے تو ہم نے ہمت باندھے رکھنے اس کے ساتھ خود ہی نمٹنے کی اپنی طرف سے بھرپور کوشش کی۔ لیکن جب میرا ٹیسٹ مثبت آیا تو میں اپنی ہمت کا احساس کھو بیٹھی۔ میری ساس نے فقط میری آواز سے اندازہ لگا لیا کہ کچھ گڑ بڑ تھی – لیکن ہم نے ان کو بتایا کہ مجھے زکام تھا۔

بد قسمتی سے میں اپنی بہن کی سہیلی کو بتا بیٹھی جو کینیڈا میں رہتی ہیں کہ ہم نے کوویڈ کا ٹیسٹ کروایا تھا – انہون نے وطن میں میری بہن کو بتایا، اور سارا خاندان پریشان ہو گیا۔ میرے والد کینسر کے مریض ہیں اور میری ساس کو شدید آرتھرائیٹس ہے۔ ہمارے لیے یہ یقینی بنانا اہم تھا کہ وہ پرسکون رہیں اور ان کو پریشان نہ کیا جائے۔

ہمارے دور کے رشتے دار جو بڑے شہروں میں رہتے تھے ان میں سے کچھ کوویڈ کے خلاف جنگ ہار چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو میں اچھی طرح جانتی تھی – جب آپ ان کی اموات کی خبر سنتے ہیں تو ان کے متعلق اور کس طرح ان کو بچایا جا سکتا تھا اس بارے میں سوچنے سے خود کو روک نہیں سکتے۔ مثال کے طور پر، ہمارے خاندان کے ایک فرد جو البرٹا میں رہتے ہیں، جو کہ جب سے یہاں پہنچے ہیں کبھی واپس نہیں گئے، انہوں نے انڈیا میں اپنی بہن کو کھو دیا۔ یہ خبر میرے لیے بہت شدید صدمہ بن کر آئی۔

مجھے خوشی ہے کہ میں اور میرے شوہر کوویڈ سے گزر کر زندہ بچ گئے۔ میں ابھی بھی اپنی اپارٹمنٹ بلڈنگ کے متعلق ہمارے خدشات کے پیشِ نظر یہاں سے کہیں اور جانے کے متعلق سوچتی ہوں، لیکن پکی ملازمت کا نہ ہونا اور زیادہ قیمتیں فی الحال ہم کو روکے ہوئے ہیں۔ لیکن میں جانتی ہوں کہ بہت سارے دوسرے بھی ہماری عالمی وباء کی کہانی سے ملتی جلتی کہانیاں رکھتے ہیں۔

ایڈیٹر کا نوٹ: Vrunda Bhatti کے یہ مضمون جمع کروانے کے چند دن بعد ان کے والد گجرات، انڈیا میں حرکتِ قلب بند ہو جانے سے اچانے فوت ہو گئے۔ وہ پچھلے مہینے ہوائی سفر کر کے انڈیا چلی گئیں(//مئی میں؛ ضرورت کے مطابق وقت درست کریں//) تاکہ اپنے خاندان کے ساتھ سوگ میں شامل ہو سکیں۔